*Para 15.* *موضوع: فتنوں کے دور میں قرآن سے حفاظت اور ہدایت*
*Summary*
موجودہ دور فتنوں سے بھرا ہوا ہے اور ان فتنوں سے بچنے کا سب سے مضبوط ذریعہ قرآن ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل (آیات 284–286 سمیت پورا سیاق) کی روشنی میں سمجھایا گیا کہ دنیا، مال، اولاد، اقتدار، علم، نفس اور خواہشات سب آزمائشیں ہیں، اور پچھلی قوم بنی اسرائیل کی تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ جب اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی جائے تو زوال آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو سیدھا راستہ دکھانے والا بنایا ہے، جو دلوں کو سکون اور زندگی کو توازن دیتا ہے، جبکہ دنیا کی محبت انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔ والدین کے حقوق، اسراف سے بچاؤ، شیطان کے وسوسوں سے حفاظت، قرآن سے جڑاؤ، دعا، توبہ اور شکر کے ذریعے انسان فتنوں کے مقابلے میں خود کو مضبوط رکھ سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ جو قرآن کو سمجھ کر اپناتا ہے، وہ فتنوں کے اس دور میں بھی ایمان اور سکون کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
سورۃ الناس صرف جنّات اور شیاطین سے پناہ کی دعا نہیں،
یہ اُن انسانوں سے بھی حفاظت کی التجا ہے
جو مسکرا کر دل توڑتے ہیں،
جو محبت اور انسیت کے نام پر آپ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر روح کو زخمی کر دیتے ہیں۔۔۔
اے ربِّ الناس،
ہمیں اُن دلوں سے بچا جو نرگسیت میں ڈوبے ہوئے ہیں،
جو دوسروں کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھاتے ہیں،
جو جھوٹ اور جذبات کو ہتھیار بنا کر اگلے کی اچھائی کو ، اسکی کمزوری کو اسکا جرم بنا دیتے ہیں۔۔
ہمیں اُن ہاتھوں سے بچا
جو سہارا بن کر آتے ہیں اور پھر زنجیر بن جاتے ہیں،
اُن زبانوں سے بچا جو تعریف میں لپیٹ کر انسان کو آہستہ آہستہ توڑ دیتی ہیں۔۔
یا اللہ،
ہر اُس دل کو پناہ دے
جو کسی جذباتی ظالم کے حصار میں قید ہے،
ہر اُس روح کو راستہ دکھا
جو manipulation اور exploitation کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔۔
جیسا کہ تو نے فرمایا:
*مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاس*
ہمیں اُس وسوسے سے بھی بچا جو انسان بن کر آتا ہے
اور ہمیں ہمیں ہی سے دور کر دیتا ہے۔۔
اے ربِّ الناس،
ہمیں اپنی پناہ میں لے لے۔۔
کیونکہ تیرے سوا دلوں کو محفوظ کرنے والا کوئی نہیں۔۔
یا رب!
ہمیں جن و انس کے ہر شر اور ہر بدنیتی سے بچا۔۔
*موضوع:* Para 14
*قرآن کے ذریعے دل کی اصلاح اور عمل میں اخلاص*
*Summary*
قرآن انسان کے دل کو زندہ کرتا اور اس کی سوچ کو درست رخ دیتا ہے۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ انسان اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرے اور اللہ کو ہر حال میں حاضر ناظر سمجھے۔ جب دل میں یہ شعور آ جاتا ہے تو گناہوں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے اور نیکی میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔ قرآن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صرف سننا یا پڑھنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا ہی اصل مقصد ہے۔
*Para 13*
*موضوع:*
*قرآن کے ذریعے خود احتسابی اور عملی اصلاح*
قرآن ہمیں اپنے اندر جھانکنے، اپنی نیتوں اور اعمال کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ اصل کامیابی لوگوں کو خوش کرنے میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ قرآن انسان کو عاجزی، صبر، سچائی اور ذمہ داری کا شعور دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہر چھوٹا عمل بھی اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہے۔ یہ پیغام انسان کو اپنی اصلاح اور قرآن سے عملی تعلق مضبوط کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔